Home / News / Pakistan News / برما میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ ہم نے کیا دیکھا؟ اینکر پرسن اقرار الحسن پہلی بار منظر عام پر آ گئے

برما میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ ہم نے کیا دیکھا؟ اینکر پرسن اقرار الحسن پہلی بار منظر عام پر آ گئے

ینگون(مانیٹرنگ ڈیسک) میانمار میں موجود اے آر وائی نیوز کے نمائندہ خصوصی اقرار الحسن نے کہا ہے کہ برما میں گھروں، مساجدوں اور مدارس کو نذر آتش کردیا گیا، برمی حکومت نے مساجد کی تعمیر پر پابندی لگا رکھی ہے، ہم ابھی تک جن علاقوں میں گئے وہاں صورتحال انتہائی خراب ہے اور مسلمان جنگلوں میں چھپے ہوئے ہیں۔میانمار میں موجود نجی ٹی وی چینل کے نمائندے سےبات کرتے ہوئے اقرا ر الحسن نے کہا کہ برمی حکومت کے مظالم جاری ہیں جس کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہے، ہزاروں روہنگیا مسلمان جنگلوں میں چھپنے پر مجبور ہیں۔اقرار الحسن

نے بتایا کہ ہم جن علاقوں میں گئے وہاں مساجد، مدارس اور مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کیا جاچکا ہے، اقرار الحسن نے کہا کہ ہماری ٹیم کو متاثرہ علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ برمی نوجوان نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر فوج اور بدھسٹ انتہاء پسندوں کے حملے جاری ہیں، بدھ مت کے ماننے والے شدت پسندوں نے 600 سے زائد بستیاں نذر آتش کردیں جس کے باعث متعدد مسلمان جھلس کر شہید ہوگئے، میں خود اپنی لاپتہ بہنوں کو تلاش کررہا ہوں۔اقرارالحسن رخائن کے قریب موجود ہیں۔واضح رہے کہ میانمار کی فوج کے ظلم کے بعد بنگلہ دیش ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔کیمپوں میں کھانے پینے کی قلت ہے کئی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کئی دن سے کچھ نہیں کھایا پیا۔ میانماری فوج کے ہاتھوں اب تک چار سو سے زائد روہنگیا مسلمان قتل ہوچکے ہیں۔فوجی کارروائیوں میں سیکڑوں گھرجلائے گئے، غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا نے امداد کی مد میں چار ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ ملائیشیا کی جانب سے امدادی سامان سے بھرا جہاز میانمار روانہ ہوچکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *